کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے

کیا زمانہ تھا کہ ہم روز ملا کرتے تھے رات بھر چاند کے ہمراہ پھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سر پھوڑ کے سو جاتی ہیں ان مکانوں میں عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے انہیں بھی مجبور کبھی یہ لوگ مرے دکھ کی دوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں چپ …

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے

ہم مسافر یونہی مصروفِ سفر جائیں گے بے نشاں ہو گئے جب شہر تو گھر جائیں گے کس قدر ہو گا یہاں مہر و وفا کا ماتم ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے جوہری بند کیے جاتے ہیں بازارِ سخن ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے نعمتِ زیست کا یہ …